ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی ملکیت یعنی اپنے ملک کی سیر کو نکلا۔...؟
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی ملکیت یعنی اپنے ملک کی سیر کو نکلا۔ وہ اپنی رعایا کی خبر لینا چاہتا تھا۔ دورے کے دوران اس کی نظر ایک ملنگ پر پڑی جو راستے میں بیٹھا تھا اور ایک دری اور ایک پرچ کے علاوہ اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ بادشاہ نے مزید نوٹ کیا کہ اس پرچ میں بھی صرف چند چھولے پڑے تھے پر وہ ملنگ مسکرا رہا تھا۔ ملنگ کی مسکراہٹ میں اتنا شدیدا طمینان اور سکون ظاہر ہو رہا تھا کہ بادشاہ حیران رہ گیا خیر وہ آگے بڑھ گیا۔ دوسرے دن پھر بادشاہ کی نظر اس پر پڑی اور وہ اسی طرح خوش باش۔ بادشاہ کی پالکی پھر بھی آگے بڑھ گئی۔ تیسرے دن جب بادشاہ کا گزر اس مقام سے ہوا اور پھر اس غریب کو اتنا مطمئن دیکھا تو اب بادشاہ اس حد تک تجسس کا شکار ہوا کہ پالکی رکوا دی اور نیچے اتر کر اس درویش کے پاس چلا گیا۔ اسے بتایا کہ ملک کا بادشاہ ہوں اور تین دن سے تیری مسکراہٹ اور مفلسی کا یکجا ہونا مجھے ہرگز ہضم نہیں ہو رہا۔ آخر ایسا کیا ہے تمہارے پاس جو تمہیں خوشی دیتا ہے؟ میرے پاس پورے ملک میں سب سے زیادہ دولت ہے مگر میں پرسکون نہیں ہوں۔ کیا تمہارے پاس پوشیدہ دولت ہے؟ درویش نے نفی میں سر ہلایا۔ بادشاہ نے پوچھاک...